We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Jahan Paiwand e Zulmat Ban Gaye

Ghulam Muhammad Qasir

جہاں پیوندِ ظلمت بن گۓ روزن مکانوں کے وہیں کھولے گۓ سارے دریچے آسماںوں کے



Free Up Space - Get Lyrics Without Bulky Screenshots!

Get it on Google Play


اک اندھی رات تھی جو ریت پر لہریں بناتی تھی اور ان میں جذب ہوجاتے تھے نغمے ساربانوں کے


سراۓ دہر میں مہمان تھےصدیوں کے سناٹے تمہارا نام لے کر کارواں اترے اذانوں کے


تمہاری رہ گزر میں کوئی جتنی دور جاتا ہے اسی نسبت سے دل پر بھید کھلتے ہیں جہانوں کے


مخالف سمت جائیں تو سفینے ٹوٹ جاتے ہیں مدینے کی طرف رخ پھر رہے ہیں بادبانوں کے


کتابِ زندگی رکھتے ہیں تابِ زندگی کم ہے نۓ کردار ہیں ہم لوگ اگلی داستانوں کے

No Internet? No Problem! Get the App for Offline Lyrics!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah