We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Jab Tasawur Main Kabhi

Arif Amritsari

جب تصور میں کبھی شہر مدینہ آیا دل کے آنگن میں بہاروں کا مہینہ آیا


مل گئی جس کو گدائی درِ اقدس کی اس کے ہاتھوں میں دوعالم کا خزینہ آیا


بحر موّج سے بس اسم محمد کے طفیل بچ کے گرداب سے، ساحل پہ سفینہ آیا



Your Lyrics, Even Offline - Install the App for Free!

Get it on Google Play


جب کبھی اپنےگناہوں پہ ذرا غورکیا مجھ کو احساس ندامت سے پسینہ آیا


میری جانب بھی تصرف کی نظرہو جاۓ آس لے کر درِ اقدس پہ کمینہ آیا


آپ کے درس صداقت کی بدولت عارف اہل دنیا کو ہے جینے کا قرینہ آیا

Instant Access to Thousands of Lyrics - Tap to Install!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah