چھوڑ فِکر دنیا کی چل مدینے چلتے ہیں مصطفیٰ غلاموں کی قسمتیں بدلتے ہیں
رحمتوں کی چادرکے سر پہ سائے چلتے ہیں مصطفیٰ کے دیوانے گھرسےجب نکلتے ہیں
صرف ساری دنیا میں وہ ہے کوچہ احمد جس جگہ پہ ہم جیسے کھوٹے سِکے چلتے ہیں
نقش کر لے سینے پر نام سرور دین کا یہ وہ نام جس سے سب عذاب ٹلتے ہیں
ذکر شاہِ بطحا کو وِرد اب بنا لیجئے یہ وہ ذکر ہے جس سےغم خوشی میں ڈھلتے ہیں
اس کو کیا ضرورت ہے عطرمشک و عنبر کی خاک جو مدینے کی اپنے تن پہ ملتے ہیں
سچ ہے غیر کا احسان ہم کبھی نہیں لیتے اے علیمؔ آقا کےہم ٹکڑوں پہ پلتے ہین