We've added ads to help keep the platform running and improving for you.

Aziz Tar Mujhe Rakhta Hai

عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے


وہ ماں کے کہنے پہ کچھ رعب مجھ پہ رکھتا ہے یہی ہے وجہ مجھے چومتے جھجھکتا ہے


وہ آشنا مرے ہر کرب سے رہے ہر دم جو کھل کے رو نہیں پاتا مگر سسکتا ہے


جڑی ہے اس کی ہر اک ہاں فقط مری ہاں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے



Free Up Space - Get Lyrics Without Bulky Screenshots!

Get it on Google Play


ہر ایک درد وہ چپ چاپ خود پہ سہتا ہے تمام عمر وہ اپنوں سے کٹ کے رہتا ہے


وہ لوٹتا ہے کہیں رات دیر کو دن بھر وجود اس کا پسینے میں ڈھل کے بہتا ہے


گلے ہیں پھر بھی مجھے ایسے چاک داماں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے


پرانا سوٹ پہنتا ہے کم وہ کھاتا ہے مگر کھلونے مرے سب خرید لاتا ہے


وہ مجھ کو سوئے ہوئے دیکھتا ہے جی بھر کے نہ جانے سوچ کے کیا کیا وہ مسکراتا ہے


مرے بغیر ہیں سب خواب اس کے ویراں سے یہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے

Offline Lyrics Anytime, Anywhere - Download the App Today!

Get it on Google Play

midhah-logo-grey© 2026 Midhah